مختصر تعارف

بلا شبہ مدارس اسلامیہ عہد حاضر کے جدید چیلنجوںکے سامنے ایک مینارہ نور کی طرح عظیم خدمات انجام دے رہے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی مدارس اسلامیہ جملہ اسلامی سرگرمیوں کے امین و پاسبان اور دین و اسلام کے تحفظ کے ضامن ہیں۔ الحمد للہ ہندوستان میں علماءربانیین کی قربانیوں کے نتیجہ میں دینی مدارس کا جال بچھا ہوا ہے اور سبھی علوم اسلامی کی ترویج و اشاعت میں مصروف ہیں، جامعہ جعفریہ مدنی نگر بھی ان ہی میں سے ایک ہے جو ہند و نیپال کے سرحدی علاقے میں دینی، اصلاحی، فلاحی اور تعلیمی خدمات بحسن و خوبی انجام دے رہا ہے۔ جامعہ جعفریہ مدنی نگر کا شمار بھی ملک کے ممتاز اداروں میں ہوتا ہے۔ اس کا قیام

مدرسہ کیا ہے ...؟

(حضرت مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی صاحب رحمة علیہ)

مدرسہ سب سے بڑی کارگاہ ہے جہاں آدم گری و مردم سازی کا کام ہوتا ہے، جہاں دین کے داعی اور اسلام کے سپاہی تیار ہوتے ہیں۔مدرسہ عالم اسلام کا پاور ہاو¿س ہے جہاں اسلامی آبادی بلکہ انسانی آبادی میں بجلی تقسیم ہوتی ہے ، مدرسہ کا ایک سرا نبوت محمدی سے ملا ہوا ہے تو دوسرا اس زندگی سے جونبوت محمدی کے سرچشمہ حیوان سے پانی لیتا ہے اور زندگی کے ان کشت زاروں کو سیراب کرتا ہے، اگر وہ اپنا کام چھوڑ دے تو تمام کھیت سوکھ جائیں اور انسانیت مرجھانے لگے، نہ نبوت محمدی کا دریا پایاب ہو نے والا نہ انسانیت کی پیاس بجھنے والی نہ نبوت محمدی کے چشمہ فیض سے بخل و انکار ہے نہ ہی انسانیت کے کار گدائی سے استغناءکا اظہار ، ادھر سے ” انما انا قسم “ کی صدائے مکر رہے اور ادھر سے ” ھل من مزید“ کی فغان مسلسل اور مدرسہ سے بڑھ کر کون سازندہ، متحرک اور مصروف ادارہ ہو سکتا ہے، زندگی کے مسائل بے شمار زندگی کے تغیرات بے شمار، زندگی کی ضرورتیں بے شمار ، زندگی کے رہزن بے شمار، مدرسہ نے جب زندگی کی رہنمائی اور دست گیری کا ذمہ لیا تو اسے اب فرصت کہاں؟

20000
Sq Feet Campur

550
Total Students

20
Faculties

4200000
Annual Expenses

تعلیمی شعبہ جات

جامعہ جعفریہ مدنی نگر کے تعلیمی شعبہ جات مند درجہ ذیل ہیں

اہم تصدیقات